EN हिंदी
تمہاری واپسی ہونے کا اندازہ نہ ہو جائے | شیح شیری
tumhaari wapsi hone ka andaza na ho jae

غزل

تمہاری واپسی ہونے کا اندازہ نہ ہو جائے

احمد کمال پروازی

;

تمہاری واپسی ہونے کا اندازہ نہ ہو جائے
کہیں بکھری ہوئی مٹی تر و تازہ نہ ہو جائے

فرشتوں تم نے بے آواز اندیشے نہیں دیکھے
یہی دیوار آگے بڑھ کے دروازہ نہ ہو جائے

بڑی خواہش ہے پھر سے زندگی ہموار کرنے کی
مگر اس سے کہیں مسمار شیرازہ نہ ہو جائے

ابھی تک تو نتیجہ بھی پس دیوار ہے جاناں
تری اس محویت سے کل کا اندازہ نہ ہو جائے

شباہت پہ اداکاری اثر انداز ہوتی ہے
ابھی تک تو یہ چہرا ہے کہیں غازہ نہ ہو جائے