EN हिंदी
تجھ کو کس منہ سے بے وفا کہئے | شیح شیری
tujhko kis munh se bewafa kahiye

غزل

تجھ کو کس منہ سے بے وفا کہئے

عاشق اکبرآبادی

;

تجھ کو کس منہ سے بے وفا کہئے
کوئی پوچھے سبب تو کیا کہئے

ہم سے کچھ وقت پر نہ بن آئی
لے گئے دل وہ مفت کیا کہئے

مجھ کو سمجھا کے گالیاں دیجے
فقرہ فقرہ جدا جدا کہئے

نہ میں عاشق نہ آپ کو کیا ہوں
غیر سے اپنا مدعا کہئے

جان دیتا ہوں کس خوشی سے میں
آج تو آپ مرحبا کہئے

آئنہ میں دکھا کے کہتا ہوں
آپ ہی ہیں کہ دوسرا کہئے

اب نہ کیجے موئے پہ سو درے
اب نہ عاشق کو با وفا کہئے