EN हिंदी
تری زلفوں نے بل کھایا تو ہوتا | شیح شیری
teri zulfon ne bal khaya to hota

غزل

تری زلفوں نے بل کھایا تو ہوتا

حیدر علی آتش

;

تری زلفوں نے بل کھایا تو ہوتا
ذرا سنبل کو لہرایا تو ہوتا

رخ بے داغ دکھلایا تو ہوتا
گل لالہ کو شرمایا تو ہوتا

چلے گا کبک کیا رفتار تیری
یہ انداز قدم پایا تو ہوتا

کہے جاتے وہ سنتے یا نہ سنتے
زباں تک حال دل آیا تو ہوتا

سمجھتا یا نہ اے آتشؔ سمجھتا
دل مضطر کو سمجھایا تو ہوتا