EN हिंदी
تیرے در سے نہ اٹھا ہوں نہ اٹھوں گا اے دوست (ردیف .. ے) | شیح شیری
tere dar se na uTha hun na uThunga ai dost

غزل

تیرے در سے نہ اٹھا ہوں نہ اٹھوں گا اے دوست (ردیف .. ے)

فنا بلند شہری

;

تیرے در سے نہ اٹھا ہوں نہ اٹھوں گا اے دوست
زندگی تیرے بنا خواب ہے افسانہ ہے

مدعا اس کے علاوہ نہیں کچھ اور مرا
تیرا دیوانہ ہوں در پہ ترے مٹ جانا ہے

اے فناؔ کہتے ہیں معراج عبادت اس کو
میرے ہر سجدے کا حاصل در جانانہ ہے