EN हिंदी
تیرا ہی میں گدا ہوں میرا تو شاہ بس ہے (ردیف .. ') | شیح شیری
tera hi main gada hun mera tu shah bas hai

غزل

تیرا ہی میں گدا ہوں میرا تو شاہ بس ہے (ردیف .. ')

عبدالوہاب یکروؔ

;

تیرا ہی میں گدا ہوں میرا تو شاہ بس ہے
مجھ شب کی روشنی کوں تجھ رخ کا ماہ بس ہے

سرمہ سے گرد مژگاں صف باندھ کے بٹھی ہیں
شاہ نین کوں تیری یو قبلہ گاہ بس ہے

دل کی شکستگی سوں پایا ہوں بادشاہی
کرنے کوں سروری کے ایسی کلاہ بس ہے

محشر کے خور کی تپ سیں کچھ ڈر نہیں ہمن کوں
زلف سیہ کا سایہ دل کی پناہ بس ہے

دو جا نہیں ہے جگ میں موجود جز خدا کے
اس بات کی شہادت اک لا الہ بس ہے

یکروؔ ہوا ہے پانی سن آبروؔ کا مصرع
''رکھنے کو یوسفاں کے اک دل کی چاہ بس ہے''