تیرا غم تیری آرزو کب تک
مجھ سے روٹھا رہے گا تو کب تک
بے ضرورت یہ ہاؤ ہو کب تک
وہ نہیں ہے تو جستجو کب تک
تا بہ کے خواہشوں کی شعلہ زنی
یہ ہوس کی شدید لو کب تک
کچھ روانی کی انتہا تو ہو
یعنی ارزاں رہے لہو کب تک
موسم روز و شب تمام بھی ہو
یہ طلسمات رنگ و بو کب تک
پھول باتوں کے کچھ لبوں پہ کھلا
آنکھوں آنکھوں میں گفتگو کب تک
غزل
تیرا غم تیری آرزو کب تک
سلطان اختر

