EN हिंदी
تغیرات کے عالم میں زندگانی ہے | شیح شیری
taghayyuraat ke aalam mein zindagani hai

غزل

تغیرات کے عالم میں زندگانی ہے

نشور واحدی

;

تغیرات کے عالم میں زندگانی ہے
شباب فانی نظر فانی حسن فانی ہے

تمام عالم ہستی پہ حکمرانی ہے
مرا جہان ہے جب تک مری جوانی ہے

میں شاد ہوں تو زمانے میں شادمانی ہے
شراب لاؤ کہ عالم تمام فانی ہے

ترے خیال سے ہے مستئ نظر میری
تری نگاہ سے میں نے شراب چھانی ہے

ترا جمال فسانوں میں رنگ بھرتا ہے
ترے شباب سے دل کش مری کہانی ہے

مری حیات میں جب تو نہیں تو کچھ بھی نہیں
ترے بغیر بھی کیا خاک زندگانی ہے

دل فسردہ میں ہوتی ہے زندگی پیدا
نشورؔ جرعۂ صہبا بھی زندگانی ہے