EN हिंदी
طبیب دیکھ کے مجھ کو دوا نہ کچھ بولا | شیح شیری
tabib dekh ke mujhko dawa na kuchh bola

غزل

طبیب دیکھ کے مجھ کو دوا نہ کچھ بولا

رضا عظیم آبادی

;

طبیب دیکھ کے مجھ کو دوا نہ کچھ بولا
خدا کو سونپ دو اس کے سوا نہ کچھ بولا

رقیب جست مرا اس کے آگے کرتا ہے
سنو تو یارو کوئی آشنا نہ کچھ بولا

میں جس سے پوچھا نشاں اس پری کی منزل کا
وہ میرے منہ کے تئیں تک رہا نہ کچھ بولا

میں عرض کی نہیں تم مجھ سے بولتے ہو کیوں
وہ اتنا کہتے ہی سن ہو گیا نہ کچھ بولا