سینہ صافی سوں مثل درپن کر
شمع فانوس دل کی روشن کر
یاد کر کے خیال گل رو کا
دشت دل میں بہار گلشن کر
گر نہیں سبحہ ہاتھ میں ہر وقت
دانۂ دم سوں پیو کی سمرن کر
گرچہ حائل ہے پردۂ غفلت
دیدۂ دل کوں کھول روزن کر
عیب پوشی کوں خلق کی داؤدؔ
چشم سیتی پلک کوں سوزن کر
غزل
سینہ صافی سوں مثل درپن کر
داؤد اورنگ آبادی

