شکست خواب طرب زا سے ہوش مند ہوا
اٹھے جو ہاتھ تو باب قبول بند ہوا
گزر رہا ہے جنوں ریگ آزمائش سے
کبھی صبا کبھی سرسر کبھی سمند ہوا
کروں بھی کیا کہ نظر آسماں پہ رہتی ہے
میں اک ستارۂ شب کا نیاز مند ہوا
عجیب شے ہے شفق ریزئ تمنا بھی
کہ سیر جاں بھی ہوئی درد بھی دو چند ہوا
نظر بھٹکتی رہی اور میں رہا آزاد
نظر جمی تو میں شایان قید و بند ہوا
ہلا نہ اپنی جگہ سے نہ چاک دامن تھا
ہوا سے لڑ کے مگر برگ ارجمند ہوا
یہ افتخار شجر شاخ نو بہار سے ہے
جو پائمال خزاں تھا وہ سر بلند ہوا
بہت قریب تھا مجھ سے مرا حریف نہ تھا
تو کیوں وہ صاحب دل درپئے گزند ہوا
نہیں ہے قامت بالا سے کم مرا قد بھی
وہ آسماں ہے تو ہو میں بھی خود پسند ہوا
غزل
شکست خواب طرب زا سے ہوش مند ہوا
سید امین اشرف

