شمع ساں شب کے میہماں ہیں ہم
صبح ہوتے تو پھر کہاں ہیں ہم
تم بن اے رفتگان ملک عدم
ہستی اپنی سے سرگراں ہیں ہم
باغباں ٹک تو بیٹھنے دے کہیں
آہ گم کردہ آشیاں ہیں ہم
دیکھتے ہیں اسی کو اہل نظر
گو نہاں ہے وہ اور عیاں ہیں ہم
نہ کسی کی سنیں نہ اپنی کہیں
نقش دیوار بوستاں ہیں ہم
جنس آسودگی نہیں ہم پاس
درد اور غم کے کارواں ہیں ہم
دل سے نالہ نکل نہیں سکتا
یاں تلک غم سے ناتواں ہیں ہم
کیا کہیں ہم حسنؔ بقول ضیاؔ
جس طرح سے کہ اب یہاں ہیں ہم
داغ ہیں کاروان رفتہ کے
نقش پائے گزشتگاں ہیں ہم
غزل
شمع ساں شب کے میہماں ہیں ہم
میر حسن

