شمع کی لو تیز اتنی تھی دھواں ہونا ہی تھا
فائدے کے کام میں کچھ تو زیاں ہونا ہی تھا
کس کو خوش آتی ہماری چھت کی سایہ افگنی
گھر بنایا تھا تو پھر بے خانماں ہونا ہی تھا
ہم نتیجے کے لیے تا زندگی بیٹھے رہے
یہ کہاں سمجھے کہ پہلے امتحاں ہونا ہی تھا
وادئ گل سے نکلنا ایک مجبوری سہی
شہر نا پرساں میں ہم کو رائیگاں ہونا ہی تھا
غزل
شمع کی لو تیز اتنی تھی دھواں ہونا ہی تھا
مظہر امام

