EN हिंदी
شکل جانانہ جا بجا ہیں ہم | شیح شیری
shakl-e-jaanana ja-ba-ja hain hum

غزل

شکل جانانہ جا بجا ہیں ہم

شاہ آثم

;

شکل جانانہ جا بجا ہیں ہم
کہیں ناز اور کہیں ادا ہیں ہم

کہیں عیسیٰ ہیں ہم کہیں مردہ
کہیں زندہ کہیں فنا ہیں ہم

کہیں اعلیٰ ہیں اور کہیں ادنیٰ
کہیں سلطاں کہیں گدا ہیں ہم

ہیں کہیں عاشق جگر خستہ
کہیں معشوق دل ربا ہیں ہم

کہیں قطرہ ہیں اور کہیں دریا
کہیں کشتی کے ناخدا ہیں ہم

ہیں کہیں ہم دوائے دافع درد
اور کہیں درد لا دوا ہیں ہم

کہیں ہیں شاہ صورت خادم
اور کہیں آثمؔ گدا ہیں ہم