شجر شجر نگراں ہے کلی کلی بیدار
نہ جانے کس کی نگاہوں کو ڈھونڈتی ہے بہار
کبھی فغاں بھی نشاط و طرب کا افسانہ
کبھی ہنسی بھی تڑپتے ہوئے دلوں کی پکار
نہ جانے کس کی نشاط قدم سے ہیں محروم
کہ ایک عمر سے سونے پڑے ہیں راہ گزار
ہزار ہار کسی چشم آشنا کے طفیل
اجڑ اجڑ کے بسے ہیں محبتوں کے دیار
عجیب حال ہے بیتابیٔ محبت کا
شب وصال کی راحت میں ڈھونڈتی ہے قرار
یہ برق حسن اور اس پر یہ تیری خوئے حجاب
یہ سیل عشق اور اس پر نظر نظر کا شمار
ہے ان کی پرسش درد و الم میں بھی پنہاں
وہ اک کسک کہ سمجھتے نہیں جسے غم خوار
غزل
شجر شجر نگراں ہے کلی کلی بیدار
صوفی تبسم

