EN हिंदी
شہر میں تنہا تھا لیکن کرب تنہائی نہ تھا | شیح شیری
shahr mein tanha tha lekin karb-e-tanhai na tha

غزل

شہر میں تنہا تھا لیکن کرب تنہائی نہ تھا

کرار نوری

;

شہر میں تنہا تھا لیکن کرب تنہائی نہ تھا
گھر سے باہر رہ کے میں اتنا تو سودائی نہ تھا

خود بخود ہی دوست بن کر بنتے ہیں دشمن یہ لوگ
ورنہ از خود تو مجھے ذوق شناسائی نہ تھا

تیری نظروں نے نہ جانے کتنی عزت بخش دی
مجھ کو پہلے تو کبھی بھی خوف رسوائی نہ تھا

اس بھری دنیا میں بس اک میں تماشا بن گیا
اور شاید کوئی بھی تیرا تمنائی نہ تھا