EN हिंदी
شہر الفت میں دیا کوئی جلاتے جاتے | شیح شیری
shahr-e-ulfat mein diya koi jalate jate

غزل

شہر الفت میں دیا کوئی جلاتے جاتے

جیوتی آزاد کھتری

;

شہر الفت میں دیا کوئی جلاتے جاتے
میرے کوچے کے اندھیرے بھی مٹاتے جاتے

یہ مرا عشق ہے کمزوری نہیں ہے جاناں
سر جھکاتی ہوں سر راہ جو آتے جاتے

یہ جو پلکوں پہ سجوئے ہوئے ہیں موتی ہم
یہ تو دولت ہے اسے کیسے لٹاتے جاتے

آپ کو دل پہ مرے راج اگر کرنا تھا
وسوسے پہلے مرے دل کے مٹاتے جاتے

زندہ رہنے کے لئے خواب ضروری ہے بہت
سو ہمیں خواب نیا کوئی دکھاتے جاتے

بے قراری کی یہ منزل نہیں ہوتی جیوتیؔ
دوریاں آپ اگر مجھ سے بڑھاتے جاتے