EN हिंदी
شہر دل پھر مرا ویران ہوا جاتا ہے | شیح شیری
shahr-e-dil phir mera viran hua jata hai

غزل

شہر دل پھر مرا ویران ہوا جاتا ہے

منیر سیفی

;

شہر دل پھر مرا ویران ہوا جاتا ہے
گھر کی بربادی کا سامان ہوا جاتا ہے

غالباً پھر نئی افتاد پڑی ہے دل پر
سانس بھی نوح کا طوفان ہوا جاتا ہے

تیری ہر بات سے گرتا ہے کلیجہ کٹ کر
تیرا ہر لفظ تو پیکان ہوا جاتا ہے

ہجر کی رات تو کروٹ میں گزر جاتی ہے
اور دن بھی بہت آسان ہوا جاتا ہے

سارا غم میری ہی قسمت میں لکھا ہے سیفیؔ
دل مرا میرؔ کا دیوان ہوا جاتا ہے