EN हिंदी
شاعری روح میں تحلیل نہیں ہو پاتی | شیح شیری
shairi ruh mein tahlil nahin ho pati

غزل

شاعری روح میں تحلیل نہیں ہو پاتی

شکیل اعظمی

;

شاعری روح میں تحلیل نہیں ہو پاتی
ہم سے جذبات کی تشکیل نہیں ہو پاتی

ہم ملازم ہیں مگر تھوڑی انا رکھتے ہیں
ہم سے ہر حکم کی تعمیل نہیں ہو پاتی

آسماں چھین لیا کرتا ہے سارا پانی
آنکھ بھرتی ہے مگر جھیل نہیں ہو پاتی

شام تک ٹوٹ کے ہر روز بکھر جاتا ہوں
یاس امید میں تبدیل نہیں ہو پاتی

رات بھر نیند کے صحرا میں بھٹکتا ہوں مگر
صبح تک خواب کی تکمیل نہیں ہو پاتی