EN हिंदी
سر ٹکرائیں جس سے وہ دیوار کہاں | شیح شیری
sar Takraen jis se wo diwar kahan

غزل

سر ٹکرائیں جس سے وہ دیوار کہاں

اکبر حیدری

;

سر ٹکرائیں جس سے وہ دیوار کہاں
جسم کہاں اور روح کا یہ آزار کہاں

تنہائی کا کب یہ عالم تھا پہلے
چھوٹ گئے ہیں مجھ سے میرے یار کہاں

اندھے شہر کے سب آئینے اندھے ہیں
ایسے میں خود اپنا بھی دیدار کہاں

ٹوٹی ٹوٹی چند شبیہیں باقی ہیں
دل میں اب یادوں کا وہ انبار کہاں

میرے اندر مجھ سے لڑتا ہے کوئی
اس پیکار میں جیت کہاں اور ہار کہاں

روح دو نیم اور جسم بھی ہے ریزہ ریزہ
خاک اڑاتا پھرتا ہے پندار کہاں

کیوں یہ کشتی ڈول رہی ہے لہروں پر
ٹوٹا ہے اس کشتی کا پتوار کہاں