EN हिंदी
سر ہونے دو یہ کار جہاں عیش کریں گے | شیح شیری
sar hone do ye kar-e-jahan aish karenge

غزل

سر ہونے دو یہ کار جہاں عیش کریں گے

عرفانؔ صدیقی

;

سر ہونے دو یہ کار جہاں عیش کریں گے
ہم لوگ بھی اے دل زدگاں عیش کریں گے

کچھ عرض کریں گے تب و تاب خس و خاشاک
آ جا کہ ذرا برق بتاں عیش کریں گے

اب دل میں شرر کوئی طلب کا نہ ہوس کا
اس خاک پہ کیا خوش بدناں عیش کریں گے

کچھ دور تو بہتے چلے جائیں گے بھنور تک
کچھ دیر سر آب رواں عیش کریں گے

اس آس پہ سچائی کے دن کاٹ رہے ہیں
آتی ہے شب وہم و گماں عیش کریں گے