EN हिंदी
سفر میں ہیں تو ہمیں یاد بام و در کی ہے | شیح شیری
safar mein hain to hamein yaad baam-o-dar ki hai

غزل

سفر میں ہیں تو ہمیں یاد بام و در کی ہے

اسحاق اطہر صدیقی

;

سفر میں ہیں تو ہمیں یاد بام و در کی ہے
ٹھہر گئے ہیں تو پھر آرزو سفر کی ہے

سکوں سے بیٹھنے والو یہ تم نے سوچا بھی
یہاں یہ چھاؤں ہے لیکن یہ کس شجر کی ہے

مرے لیے مری ہجرت ہی اجر کیا کم ہے
میں چل رہا ہوں کہ ہر راہ میرے گھر کی ہے

ہمیں بھی ہے تو خبر دھوپ چھاؤں کی اطہرؔ
کہ ہم نے بھی تو کوئی زندگی بسر کی ہے