EN हिंदी
سفر کے تجربوں میں گرد پا بھی آ ہی جاتی ہے | شیح شیری
safar ke tajrabon mein gard-e-pa bhi aa hi jati hai

غزل

سفر کے تجربوں میں گرد پا بھی آ ہی جاتی ہے

سید امین اشرف

;

سفر کے تجربوں میں گرد پا بھی آ ہی جاتی ہے
مگر اس پیچ و خم سے کچھ جلا بھی آ ہی جاتی ہے

جو چلتا ہوں فلک سے خوں کے فوارے برستے ہیں
جو رکتا ہوں سموم فتنہ زا بھی آ ہی جاتی ہے

خرد کی سانس بھی رک جاتی ہے تیرہ خیالی سے
تہہ احساس نادیدہ بلا بھی آ ہی جاتی ہے

جو پودے صحن میں کھلتے ہیں ان کو دھوپ لگتی ہے
درختوں سے تر و تازہ ہوا بھی آ ہی جاتی ہے

ہرے رہ جائیں گے جاں دار پتے زرد موسم میں
خزاں بختی میں جینے کی ادا بھی آ ہی جاتی ہے

انہیں سے قریۂ جاں میں وفور درد ہوتا ہے
انہیں نظروں میں تاثیر شفا بھی آ ہی جاتی ہے