EN हिंदी
سبھی تو ہیں مگر اب مہرباں کہاں ہے کوئی | شیح شیری
sabhi to hain magar ab mehrban kahan hai koi

غزل

سبھی تو ہیں مگر اب مہرباں کہاں ہے کوئی

مشتاق انجم

;

سبھی تو ہیں مگر اب مہرباں کہاں ہے کوئی
نظر میں پیار لیے درمیاں کہاں ہے کوئی

اک اپنا سر ہی نہیں دل بھی میں جھکا دوں گا
مگر بتاؤ ذرا آستاں کہاں ہے کوئی

ستم گری کی حدیں اس نے توڑ ڈالی ہیں
ہماری طرح مگر بے زباں کہاں ہے کوئی

کبھی تو پورے شجر پر تھا اپنا کاشانہ
ہمارے نام کا اب آشیاں کہاں ہے کوئی

تمہاری اپنی ہی کشتی ڈبو نہ دے تم کو
ہوا ہے تیز مگر بادباں کہاں ہے کوئی

ہمارے پاؤں تلے کی زمین کھینچتے ہو
ہمارے بعد تمہارا جہاں کہاں ہے کوئی

کرو گے غور تو انجمؔ سمجھ میں آئے گا
زمیں ہے چاروں طرف آسماں کہاں ہے کوئی