EN हिंदी
سارے چمن کو دشت میں تبدیل کر گئے | شیح شیری
sare chaman ko dasht mein tabdil kar gae

غزل

سارے چمن کو دشت میں تبدیل کر گئے

دل ایوبی

;

سارے چمن کو دشت میں تبدیل کر گئے
بے درد تھے جو عین جوانی میں مر گئے

ملبوس اہل ہوش کا معیار دیکھ کر
دیوانے بے لباس درختوں سے ڈر گئے

شاید اداسیوں پہ ترس آ گیا مری
کل رات شہر جاں میں فرشتے اتر گئے

سنتے ہیں ان پہ نور برستا ہے آج تک
جن وادیوں سے ہو کے ترے خوش نظر گئے

ہم سر پھرے بھی خوب تھے اے دلؔ کہ عشق میں
ناموس و ننگ و نام بھی قربان کر گئے