سارے عالم میں نور ہے تیرا
ہر جگہ پر ظہور ہے تیرا
شرق سے غرب قاف سے تا قاف
تذکرہ دور دور ہے تیرا
دل عاشق کو کیوں جلاتا ہے
یہ بھی کیا کوہ طور ہے تیرا
میں کہاں اور تیرا نام کہاں
سب کرم کا وفور ہے تیرا
شب فرقت کو کیوں دراز کیا
کیا یہ روز نشور ہے تیرا
اس ستم گر کا کیا کریں شکوہ
او رے دل سب قصور ہے تیرا
رحم کر آسماں پہ اے باری
بندۂ پر قصور ہے تیرا
اس کو کہتے ہیں انجمؔ عاصی
نام رب غفور ہے تیرا
غزل
سارے عالم میں نور ہے تیرا
مرزا آسمان جاہ انجم

