EN हिंदी
سارے عالم میں نور ہے تیرا | شیح شیری
sare aalam mein nur hai tera

غزل

سارے عالم میں نور ہے تیرا

مرزا آسمان جاہ انجم

;

سارے عالم میں نور ہے تیرا
ہر جگہ پر ظہور ہے تیرا

شرق سے غرب قاف سے تا قاف
تذکرہ دور دور ہے تیرا

دل عاشق کو کیوں جلاتا ہے
یہ بھی کیا کوہ طور ہے تیرا

میں کہاں اور تیرا نام کہاں
سب کرم کا وفور ہے تیرا

شب فرقت کو کیوں دراز کیا
کیا یہ روز نشور ہے تیرا

اس ستم گر کا کیا کریں شکوہ
او رے دل سب قصور ہے تیرا

رحم کر آسماں پہ اے باری
بندۂ پر قصور ہے تیرا

اس کو کہتے ہیں انجمؔ عاصی
نام رب غفور ہے تیرا