EN हिंदी
سانس لینا بھی بار ہوتا ہے | شیح شیری
sans lena bhi bar hota hai

غزل

سانس لینا بھی بار ہوتا ہے

عاجز ماتوی

;

سانس لینا بھی بار ہوتا ہے
جب ترا انتظار ہوتا ہے

آتا ہے جب بہار کا موسم
جب جنوں استوار ہوتا ہے

ذکر کیا دامن و گریباں کا
پیرہن تار تار ہوتا ہے

آپ رونے سے منع کرتے ہیں
رونے پر اختیار ہوتا ہے

ہے حقیقت یہی کہ ہر چہرہ
دل کا آئینہ دار ہوتا ہے

اے مرے دل سکوں سکوں ہے مگر
انتشار انتشار ہوتا ہے

راس آتی نہیں خوشی اس کو
جس کو غم ناگوار ہوتا ہے

سن کے عاجزؔ وہ سر گذشت مری
جانے کیوں اشک بار ہوتا ہے