سانحہ ہو کے رہا چشم کا مرجھا جانا
خواب لگتا ہے ترا خواب میں بھی آ جانا
آنکھ تا دیر رہی موجۂ غم ناک میں تر
حسن کا کھیل تھا آئینے کو چمکا جانا
تو سر بام ہوا بن کے گزرتا کیوں ہے
میرے ملبوس کی عادت نہیں لہرا جانا
دشت کے لب پہ ہے اس قطرۂ نیساں کا مزا
تو کہاں جان سکا میں نے تجھے کیا جانا
تخم بوتا ہے کوئی ہاتھ مری مٹی میں
مجھ کو آساں ہے بہت چھاؤں کا پھیلا جانا
غزل
سانحہ ہو کے رہا چشم کا مرجھا جانا
شاہدہ حسن

