EN हिंदी
روکے کچھ دیر غبار آنکھ کا دھو لیں ہم بھی | شیح شیری
roke kuchh der ghubar aankh ka dho len hum bhi

غزل

روکے کچھ دیر غبار آنکھ کا دھو لیں ہم بھی

کرار نوری

;

روکے کچھ دیر غبار آنکھ کا دھو لیں ہم بھی
اپنے بھی دل کو ذرا آج ٹٹولیں ہم بھی

نام لے کر کبھی ہم کو بھی پکارے کوئی
اپنا دروازہ کسی روز تو کھولیں ہم بھی

لفظ و معنی بھی ابھرنے لگے سناٹے سے
در و دیوار جو بولے ہیں تو بولیں ہم بھی

جی میں آتا ہے کبھی ان کا تصور لے کر
کوئی جاتا ہو کہیں ساتھ میں ہو لیں ہم بھی