رنگ یہاں بہت مگر رنگ سے کام بھی نہیں
تیری یہ بزم آب و گل دل کا مقام بھی نہیں
بس کہ کہیں نہ جاگ اٹھیں سوئی ہوئی قیامتیں
یہ تو خرام شر ہے حشر خرام بھی نہیں
میری نماز کیف میں سجدہ کہاں رکوع کیا
ساقیٔ مست کی قسم ہوش امام بھی نہیں
حسن تمام گفتگو عشق تمام خامشی
رفع شکوک بھی نہیں قطع کلام بھی نہیں
مے سے اگر گریز ہے سجدہ تو خم کو کیجیے
بادہ حرام ہو تو ہو سجدہ حرام بھی نہیں
غزل
رنگ یہاں بہت مگر رنگ سے کام بھی نہیں
نشور واحدی

