EN हिंदी
قاصد تو لیے جاتا ہے پیغام ہمارا | شیح شیری
qasid to liye jata hai paigham hamara

غزل

قاصد تو لیے جاتا ہے پیغام ہمارا

آصف الدولہ

;

قاصد تو لیے جاتا ہے پیغام ہمارا
پر ڈرتے ہوئے لے جو وہاں نام ہمارا

کیا تاب ہے جو سامنے ٹھہرے کوئی اس کے
آفت ہے غضب ہے وہ دل آرام ہمارا

آغاز نے تو عشق کے یہ حال دکھایا
اب دیکھیے کیا ہووے گا انجام ہمارا

اے چرخ اسی طرح تو گردش میں رہے گا
پر تجھ سے نہ نکلے گا کبھو کام ہمارا

اے پیر مغاں دیکھیو آصفؔ یہ کہے ہے
خالی نہ رہے مے سے سدا جام ہمارا