پوچھو نہ کچھ کٹے ہے اب اوقات کس طرح
ہے یہ ہی غم کہ آئیں گے وہ ہات کس طرح
معروفؔ سے یہ میں نے جو پوچھا کہ ان دنوں
بتلا ترے گزرتے ہے اوقات کس طرح
کہنے لگا کہ روتے گزرتا ہے مجھ کو دن
پھر میں کہا کہ دن تو ہوا رات کس طرح
بولا کہ رات وقت ملاقات یار ہے
پوچھا جو میں کہ شکل ملاقات کس طرح
بولا کہ ہم کو ایک مناجات یاد ہے
میں نے کہا سنیں وہ مناجات کس طرح
بے اختیار رو کے کہا دل لگا کہیں
کہنے کی بات ہے یہ کہوں بات کس طرح
غزل
پوچھو نہ کچھ کٹے ہے اب اوقات کس طرح
معروف دہلوی

