EN हिंदी
پیام لے کے جو پیغام بر روانہ ہوا | شیح شیری
payam le ke jo paigham-bar rawana hua

غزل

پیام لے کے جو پیغام بر روانہ ہوا

بیخود بدایونی

;

پیام لے کے جو پیغام بر روانہ ہوا
حسد کو حیلہ ملا اشک کو بہانہ ہوا

وہ میری آہ جو شرمندۂ اثر نہ ہوئی
وہ میرا درد جو منت کش دوا نہ ہوا

خیال میں نہ رہیں صورتیں عزیزوں کی
وطن سے چھوٹے ہوئے اس قدر زمانہ ہوا

وہ داغ جس کو جگہ دل میں دی تھی جیتے جی
چراغ بھی تو ہمارے مزار کا نہ ہوا

پری وشوں کو سناتے ہیں قصہ خواں بیخودؔ
ہمارا حال نہ ٹھہرا کوئی فسانہ ہوا