EN हिंदी
پلکوں پہ کچھ چراغ فروزاں ہوئے تو ہیں | شیح شیری
palkon pe kuchh charagh farozan hue to hain

غزل

پلکوں پہ کچھ چراغ فروزاں ہوئے تو ہیں

ممتاز میرزا

;

پلکوں پہ کچھ چراغ فروزاں ہوئے تو ہیں
اس زندگی کے مرحلے آساں ہوئے تو ہیں

میری جبیں نے جن کو نوازا تھا کل تلک
وہ ذرے آج مہر درخشاں ہوئے تو ہیں

نادم بھی ہوں گے اپنی جفاؤں پہ ایک دن
وہ کم نگاہیوں پہ پشیماں ہوئے تو ہیں

شمع وفا جلاتے ہیں ظلمت کدوں میں جو
وہ لوگ اس جہاں میں پریشاں ہوئے تو ہیں

کس موج خوں سے گزرے ہیں ممتازؔ کیا کہیں
کہنے کو آج ہم بھی غزل خواں ہوئے تو ہیں