EN हिंदी
پیکر ناز پہ جب موج حیا چلتی تھی | شیح شیری
paikar-e-naz pe jab mauj-e-haya chalti thi

غزل

پیکر ناز پہ جب موج حیا چلتی تھی

حسن نعیم

;

پیکر ناز پہ جب موج حیا چلتی تھی
قریۂ جاں میں محبت کی ہوا چلتی تھی

ان کے کوچے سے گزرتا تھا اٹھائے ہوئے سر
جذبۂ عشق کے ہم راہ انا چلتی تھی

اک زمانہ بھی چلا ساتھ تو آگے آگے
گرد اڑاتی ہوئی اک موج بلا چلتی تھی

پردۂ فکر پہ ہر آن چمکتے تھے نجوم
فرش تا عرش کوئی ماہ لقا چلتی تھی

میں ہی تنہا نہ خرابوں سے گزرتا تھا نعیمؔ
شام تا صبح ستاروں کی ضیا چلتی تھی