EN हिंदी
نیت ہو اگر نیک تو دیتا ہے خدا بھی | شیح شیری
niyyat ho agar nek to deta hai KHuda bhi

غزل

نیت ہو اگر نیک تو دیتا ہے خدا بھی

اطہر شکیل

;

نیت ہو اگر نیک تو دیتا ہے خدا بھی
کرتے ہیں عمل لوگ تو ملتا ہے صلہ بھی

باطن کی حرارت سے پھنکے جاتے ہیں تن من
پروائی بھی چلتی ہے برستی ہے گھٹا بھی

چھو کر نہیں گزری ہے تری زلف معطر
اس بار تو محروم چلی آئی صبا بھی

اک تم ہو کہ بچھڑے تو بچھڑ ہی گئے ہم سے
ملتے ہیں بہت لوگ تو ہوتے ہیں جدا بھی

آداب محبت تھے کہ دامن نہیں چھوڑا
تم دور نہ تھے دور نہ تھے بند قبا بھی

کس یاس کے عالم میں ہوں کیا جانیے اطہرؔ
مدت ہوئی آئی نہیں ہونٹوں پہ دعا بھی