EN हिंदी
نکل مت گھر سے تو اے خانہ آباد | شیح شیری
nikal mat ghar se tu ai KHana-abaad

غزل

نکل مت گھر سے تو اے خانہ آباد

رضا عظیم آبادی

;

نکل مت گھر سے تو اے خانہ آباد
کیا اب ہم نے بھی ویرانہ آباد

قبول ہوگا کہیں تو سجدہ اپنا
رہیں یہ کعبہ و بت خانہ آباد

ہمارا ہی رہے اک جام خالی
مغاں رہیو ترا مے خانہ آباد

رہے اس زلف سے یہ دل پریشاں
ترا گھر ہووے یوں اے شانہ آباد

رضاؔ لوٹا ہے کس سفاک نے آ
کبھی دل کو ترے دیکھا نہ آباد