EN हिंदी
نگاہ یار سوں حاصل ہے مجھ کوں مے نوشی | شیح شیری
nigah-e-yar sun hasil hai mujh kun mai-noshi

غزل

نگاہ یار سوں حاصل ہے مجھ کوں مے نوشی

داؤد اورنگ آبادی

;

نگاہ یار سوں حاصل ہے مجھ کوں مے نوشی
لب خموش نے بخشا ہے اس کے خاموشی

بجا ہے گر کرے عاشق کوں ایک دور میں مست
ہے جام چشم صنم میں شراب بے ہوشی

کیا ہے شوخ نے بر میں قبائے نافرماں
عدول کیوں نہ کرے وعدۂ ہم آغوشی

سجن کے ناوک مژگاں کے دل میں ہیبت رکھ
کیا ہے میں نے یہ دریا منے زرہ پوشی

کیا نہیں ہوں رقم خط میں اس سبب داؤدؔ
میں نامہ بر سوں کہا ہوں کہ راز ہے گوشی