EN हिंदी
نصیب چشم میں لکھا ہے گر پانی نہیں ہونا (ردیف .. ') | شیح شیری
nasib-e-chashm mein likkha hai gar pani nahin hona

غزل

نصیب چشم میں لکھا ہے گر پانی نہیں ہونا (ردیف .. ')

شہرام سرمدی

;

نصیب چشم میں لکھا ہے گر پانی نہیں ہونا
تو کیا یہ طے ہے اب رنج پشیمانی نہیں ہونا

سکوں سے جا لگے گی دل کی کشتی اپنے ساحل سے
کہ اس برسات میں دریا کو طوفانی نہیں ہونا

سبھی کچھ طے شدہ معمولی جیسا ہونے والا ہے
کسی بھی واقعے کو وجہ حیرانی نہیں ہونا

جنوں میں ممکنہ حد تک رہے گا ہوش بھی شامل
مری جاں بے ضرورت کار نادانی نہیں ہونا

ہمیں ان خوش نصیبوں میں سے ہیں، جن کے نصیبوں میں
خدا نے صاف لکھا ہے ''پریشانی نہیں ہونا''