نجات کے لیے روز سیاہ مانگتی ہے
زمین اہل زمیں سے پناہ مانگتی ہے
بھرا نہ اطلس و مرمر سے پیٹ خلقت کا
یہ بد نہاد اب آب و گیاہ مانگتی ہے
ریاضتوں سے فرشتہ صفت تو ہو نہ سکی
محبت آئی ہے تاب گناہ مانگتی ہے
وہ رنگ کوچہ و بازار ہے کہ اب بستی
گھروں سے دور الگ قتل گاہ مانگتی ہے
رگوں میں دوڑتا پھرتا ہے عجز صدیوں کا
رعیت آج بھی اک بادشاہ مانگتی ہے
غزل
نجات کے لیے روز سیاہ مانگتی ہے
محمد اظہار الحق

