EN हिंदी
نفس نفس اضطراب میں تھا | شیح شیری
nafas nafas iztirab mein tha

غزل

نفس نفس اضطراب میں تھا

سلطان اختر

;

نفس نفس اضطراب میں تھا
میں حلقۂ صد عتاب میں تھا

سبھی نظارے نظر میں گم تھے
کہ سارا منظر حجاب میں تھا

پڑھا تو کچھ بھی نہ ہاتھ آیا
لکھا بہت کچھ کتاب میں تھا

لہو کی آہٹ پہ چونک اٹھا
وہ مدتوں جیسے خواب میں تھا

دلوں میں روشن نئی کہانی
پرانا قصہ کتاب میں تھا

بس اک ہنر تہہ بہ تہہ منور
بس اک سخن انتخاب میں تھا

میں اس کی خوشبو میں گم تھا اخترؔ
وہ میرے غم کے حساب میں تھا