EN हिंदी
نئے مکاں میں عقیدے کی کوئی جا ہی نہیں | شیح شیری
nae makan mein aqide ki koi ja hi nahin

غزل

نئے مکاں میں عقیدے کی کوئی جا ہی نہیں

مظہر امام

;

نئے مکاں میں عقیدے کی کوئی جا ہی نہیں
خدا تو ہے پہ کہیں بندۂ خدا ہی نہیں

بھروسہ یوں تو بہت تھا مگر دعا کے لیے
جو ہاتھ ہم نے اٹھایا تو وہ اٹھا ہی نہیں

ہر ایک شخص یہاں اپنے آپ میں گم ہے
کسی سے ہاتھ ملانے کا فائدہ ہی نہیں

لہو لہان ہے جو بھی ادھر سے آیا ہے
مگر یہ میں کہ جو اس راہ تک گیا ہی نہیں

دیار خواب ہے آؤ یہیں قیام کریں
یہاں سے یوں بھی نکلنے کا راستہ ہی نہیں