EN हिंदी
ناز کا مارا ہوا ہوں میں ادا کی سوگند | شیح شیری
naz ka mara hua hun main ada ki saugand

غزل

ناز کا مارا ہوا ہوں میں ادا کی سوگند

رضا عظیم آبادی

;

ناز کا مارا ہوا ہوں میں ادا کی سوگند
کشتۂ جور و جفا ہوں میں وفا کی سوگند

خواہ کافر مجھے کہہ خواہ مسلمان اے شیخ
بت کے ہاتھوں میں بکایا ہوں خدا کی سوگند

کچھ خبر راہ فنا کی بھی رکھے ہے ہم سے
کہہ دے اے خضر تجھے آب بقا کی سوگند

یار سے خواری و رسوائی ہمیں بہتر ہے
غیر کی عزت و حرمت سے وفا کی سوگند

شمع کی روشنی سر کٹنے سے ہوتی ہے دو چند
درد ہی سے مجھے حاصل ہے دوا کی سوگند

اس کی گر جان سے مطلب نہیں تجھ کو اے میاں
چھوٹے کیوں کھاتا ہے ہر دم تو رضاؔ کی سوگند