نہ سنی پر نہ سنی اس نے دل زار کی عرض
کون سنتا ہے بھلا ایسے گنہ گار کی عرض
چلو آہستہ کہ ہوتی ہے قیامت برپا
فتنۂ حشر نے یہ اس سے کئی بار کی عرض
جنبش لب ہے دم نزع یہ کچھ کہتا ہے
سن تو لو اپنے ذرا مائل گفتار کی عرض
ذکر اغیار سے چھڑکا کئے زخموں پہ نمک
دم کشتن نہ سنی کشتۂ تلوار کی عرض
مدح خواں آل عبا کا میں رہوں اے تنویرؔ
ہے یہ خدمت میں جناب شہ ابرار کی عرض

غزل
نہ سنی پر نہ سنی اس نے دل زار کی عرض
تنویر دہلوی