EN हिंदी
نہ رستہ نہ کوئی ڈگر ہے یہاں | شیح شیری
na rasta na koi Dagar hai yahan

غزل

نہ رستہ نہ کوئی ڈگر ہے یہاں

مخمور سعیدی

;

نہ رستہ نہ کوئی ڈگر ہے یہاں
مگر سب کی قسمت سفر ہے یہاں

سنائی نہ دے گی دلوں کی صدا
دماغوں میں وہ شور و شر ہے یہاں

ہواؤں کی انگلی پکڑ کر چلو
وسیلہ یہی معتبر ہے یہاں

نہ اس شہر بے حس کو صحرا کہو
سنو اک ہمارا بھی گھر ہے یہاں

پلک بھی جھپکتے ہو مخمورؔ کیوں
تماشا بہت مختصر ہے یہاں