EN हिंदी
نہ مانا میرا کہنا دل گیا کیوں داد خواہی کو | شیح شیری
na mana mera kahna dil gaya kyun dad-KHwahi ko

غزل

نہ مانا میرا کہنا دل گیا کیوں داد خواہی کو

عاشق اکبرآبادی

;

نہ مانا میرا کہنا دل گیا کیوں داد خواہی کو
سزا دیتے ہیں واں مجرم بنا کر بے گناہی کو

ہماری بے کسی نے چھان ڈالا ہے جہاں سارا
سوا تیرے ٹھکانا ہی نہیں ہے بے پناہی کو

قیامت میں وہ مجھ کو دیکھ کر کہتے ہیں غیروں سے
خدا کی شان ہے عاشق چلے ہیں داد خواہی کو

اڑائی خاک اس کی خوب جا کر کوہ و صحرا میں
دل وحشی نے کیا الٹے دیے چکر تباہی کو

اجڑ جائے گا جس دن کارخانہ بادہ خواروں کا
بہت روئے گا ساقی کشتیٔ مے کی تباہی کو

برا ہو رشک کا رہبر سمجھ کر دل سے جو پوچھا
عدم کا راستہ بتلا دیا گم گشتہ راہی کو