EN हिंदी
نہ کم ہوا ہے نہ ہو سوز اضطراب دروں | شیح شیری
na kam hua hai na ho soz-e-iztirab-e-durun

غزل

نہ کم ہوا ہے نہ ہو سوز اضطراب دروں

مخمور سعیدی

;

نہ کم ہوا ہے نہ ہو سوز اضطراب دروں
ترے قریب رہوں میں کہ تجھ سے دور رہوں

کہیں کوئی ترا محرم ہے اے دل محزوں
مجھے بتا کہ کدھر جاؤں کس سے بات کروں

تری نظر نے بہت کچھ سکھا دیا دل کو
کچھ اتنا سہل نہ تھا ورنہ کاروبار جنوں

پکارتی ہیں مجھے وسعتیں دو عالم کی
میں اپنے آپ سے دامن چھڑا سکوں تو چلوں

تری وفا نہ مجھے راس آ سکی لیکن
میں سوچتا ہوں تجھے کیسے بے وفا کہہ دوں

مری شکستہ دلی کا نہ کر خیال اتنا
کہیں نہ میں ترے خوابوں میں تلخیاں بھر دوں

گرفت عصر رواں اس قدر تو مہلت دے
کہ مٹ رہی ہے جو دنیا اسے میں دیکھ تو لوں

یہ کس خیال نے کی ہے مری زباں بندی
تجھی سے کہنے کی باتیں تجھی سے کہہ نہ سکوں

وہ اضطراب طلب تھا کسی توقع پر
اب اٹھ چکی ہے توقع اب آ چلا ہے سکوں