نہ جان کر گل بازی بہت اچھال کے پھینک
یہ دل ہے ٹوٹ نہ جائے ذرا سنبھال کے پھینک
ستم ہے یوں دل پر خوں دیا اچھال کے پھینک
کہ جس طرح کوئی دے قہقہے گلال کے پھینک
گہن سے چاند نکلتا ہے کس طرح دیکھیں
نقاب کو رخ روشن سے کھول کھال کے پھینک
خطا کرے نہ کہیں دل پہ اے کماں ابرو
جو تیر پھینک یہاں اس کو دیکھ بھال کے پھینک
وہ مے پلا ہمیں ساقی کہ رند مفلس ہیں
سبو و جام سے تلچھٹ بھی جو کھنگال کے پھینک
جو درد دل سے تڑپتا ہوں ضبط کہتا ہے
جگر کو سینے سے پہلو سے دل نکال کے پھینک
طلب کیا ہے سفید اس نے فرش پا انداز
مہ دو ہفتہ نے دی چاندنی اجال کے پھینک
سپر ہوئی جو مری قبر کی سیہ کاری
ید کرم نے دیے چار پھول ڈھال کے پھینک
وہ بلبلہ دل نازک ہے اے یم خوبی
حباب سے بھی سبک تر اسے سنبھال کے پھینک
سنے سے جس کے اڑیں ہوش کبک و بلبل کے
وہ لکھ کے شعر اب اے شادؔ بول چال کے پھینک
غزل
نہ جان کر گل بازی بہت اچھال کے پھینک
شاد لکھنوی

