EN हिंदी
نہ ہونے کا گماں رکھا ہوا ہے | شیح شیری
na hone ka guman rakkha hua hai

غزل

نہ ہونے کا گماں رکھا ہوا ہے

کاشف حسین غائر

;

نہ ہونے کا گماں رکھا ہوا ہے
کہ ہونے میں زیاں رکھا ہوا ہے

زمیں کے جسم پر قبریں نہیں ہیں
خیال رفتگاں رکھا ہوا ہے

سر مژگاں مرے آنسو نہیں ہیں
سلوک دوستاں رکھا ہوا ہے

یہاں جو اک چراغ زندگی تھا
نہ جانے اب کہاں رکھا ہوا ہے

یہ دنیا اک طلسم آب و گل ہے
یہاں سب رائیگاں رکھا ہوا ہے