نہ ہم نوا مرے ذوق خرام کا نکلا
یہ راستہ بھی اسی نرم گام کا نکلا
نئے گلوں کی صدائے شگفت تیز ہوئی
ہوا کے لمس سے رشتہ کلام کا نکلا
مصوری نہ سہی کام آئی بے ہنری
کوئی بہانہ تو ان سے سلام کا نکلا
تلاش رزق میں نکلے تھے مہر صبح لیے
عقب سے پہلا ستارہ بھی شام کا نکلا
یہاں بھی دھوپ چلی آئی بے خیالی کی
یہ سائبان تصور نہ کام کا نکلا
مصاحبوں کی طرح ہر قدم پہ خار ملے
مرا سفر تو بڑے اہتمام کا نکلا
وہی شجر وہی پتے وہی ہوا وہی آگ
کلام نو بھی مرا رنگ عام کا نکلا
غزل
نہ ہم نوا مرے ذوق خرام کا نکلا
مظہر امام

