EN हिंदी
نہ ہم محو خیال ابروے خم دار سوتے ہیں | شیح شیری
na hum mahw-e-KHayal abru-e-KHam-dar sote hain

غزل

نہ ہم محو خیال ابروے خم دار سوتے ہیں

معروف دہلوی

;

نہ ہم محو خیال ابروے خم دار سوتے ہیں
سپاہی ہیں زبس باندھے ہوئے تلوار سوتے ہیں

تمہارا سوتے سوتے چونک پڑنا کھب گیا دل میں
کہ اکثر خود بخود ہو ہو کے ہم بیدار سوتے ہیں

الٰہی ہم کو ہے کس کا خیال خواب و بیداری
جو لاکھوں ہار اٹھتے ہیں ہزاروں یار سوتے ہیں

نگاہ مست ساقی میں ہے کیا دارائے بے ہوشی
کہ ساغر لگ رہا ہے منہ سے اور مے خوار سوتے ہیں

نہ کر وسواس دل میں چل وہاں معروفؔ بے کھٹکے
کہ دربان اونگھتا ہے اور چوکیدار سوتے ہیں